سوشل میڈیا کے "استرے" سے ملک کا برا حال کر دیا گیا، جھوٹ پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے: عظمیٰ بخاری۔ وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں ایسا کوئی اخبار نہیں چلے گا جو اپنے ورکرز کو تنخواہ نہیں دے گا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ میڈیا ہاؤسز کا آڈٹ کروایا جائے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس ادارے کے ذمہ ورکرز کے کتنے واجبات ہیں، جبکہ اے بی سی اخبارات اور انہیں ملنے والے اشتہارات کی تفصیلات بھی پبلک کی جائیں گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں "میڈیا لاز، ریگیولیشنز اور ایتھیکس" کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے اور کسی بھی صحافی کو تنخواہوں کے حوالے سے پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ جعلی خبریں پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور میڈیا کے اخلاقی معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے صحافی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کریں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے جس کے ذریعے بغیر تصدیق کے خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ حکومت اس رجحان کو روکنے کے لیے موثر قوانین بنائے گی تاکہ عوام کو غلط معلومات سے بچایا جا سکے۔