لاہور (9 اپریل 2026): لاہور ہائیکورٹ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کے خلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ لین اور زبیرا کراسنگ پر بھی بھاری جرمانے کیے جا رہے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ٹریفک کا نظام بہتر کرنے کے بجائے بھاری جرمانوں سے ریونیو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ اس پر عدالت نے پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیے۔

واضح رہے کہ فروری 2026 میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈیجیٹل ٹریفک چالان ون ایپ کا باضابطہ افتتاح کیا تھا جس کے تحت ٹریفک چالان ویڈیو ثبوت کے ساتھ جاری کیا جائے گا، نیا نظام ویڈیو شواہد کی مدد سے چالان جاری کر کے شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔ ٹریفک کی خلاف ورزیوں کی ریکارڈنگ کو محفوظ طریقے سے محفوظ کیا جائے گا اور ان کی تصدیق کی جائے گی۔

نئے نظام کے تحت موقع پر شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور چوری شدہ گاڑیوں کی تصدیق ممکن ہوگی جبکہ گاڑی کی ملکیت، فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ کی فوری ویری فکیشن بھی کی جا سکے گی۔ تجاوزات اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر بھی ڈیجیٹل کارروائی عمل میں لائی جائے گی، انٹیگریٹڈ سسٹم کے تحت ای چالان کے ساتھ ساتھ ایف آئی آر اسٹیٹس، سیور اور کریمنل ریکارڈ بھی چیک کیا جا سکے گا۔

دوسرے مرحلے میں پوائنٹ سسٹم متعارف کروایا جائے گا اور سنگین ٹریفک خلاف ورزیوں پر ایف آئی آر کا اندراج بھی کیا جائے گا۔ شہریوں کو ٹریفک وائلیشن کی تفصیلات کیو آر کوڈ کے ذریعے موصول ہوں گی۔ عدالت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔