صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات: ایک کروڑ 82 لاکھ مریضوں کا علاج، 6 کروڑ افراد کی رجسٹریشن، دل کے امراض کے لیے کیتھ لیبس قائم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صحت کے شعبے سے متعلق خصوصی جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی سیکرٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن نادیہ ثاقب نے مختلف منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کلینک آن ویل پروگرام کے تحت ایک کروڑ 82 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے جبکہ 70 لاکھ الٹراساؤنڈ اور 12 لاکھ بچوں کو حفاظتی �یکے لگائے گئے۔ اسی طرح فیلڈ ہسپتالوں میں 28 لاکھ مریضوں نے رجوع کیا جہاں 4 لاکھ 48 ہزار 468 لیب ٹیسٹ اور ایک لاکھ 70 ہزار 772 ایکسرے اور الٹراساؤنڈ کیے گئے۔
بریفنگ کے مطابق ذیابیطس کے 2242 مریضوں کو گھر بیٹھے دو، دو ماہ کی انسولین فراہم کی گئی جبکہ ہیپاٹائٹس کے 14 ہزار 286 اور تپ دق کے 13 ہزار 864 مریضوں کو بھی دو، دو ماہ کی ادویات ہوم ڈیلیوری کے ذریعے پہنچائی گئیں۔
صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے حوالے سے بتایا گیا کہ فیز ون میں 1026 بنیادی مراکز صحت اور 191 دیہی مراکز صحت کی ری ویمپنگ مکمل کی گئی جبکہ فیز ٹو میں 433 بنیادی مراکز صحت اور 81 آر ایچ سی کی اپگریڈیشن بھی مکمل ہو چکی ہے۔ فیز تھری میں 895 مراکز صحت کی تعمیر و بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز نے پنجاب بھر میں 6 کروڑ 30 لاکھ افراد کی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے جبکہ 80 لاکھ گھرانوں اور ایک کروڑ گھروں سے متعلق ڈیٹا بھی اکٹھا کیا گیا ہے۔ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کی جی ایس آئی ٹیم نے 58 ہزار 571 ایریاز کی میپنگ بھی مکمل کر لی۔
دل کے امراض کے علاج کے لیے پنجاب کے چار اضلاع جہلم، جھنگ، میانوالی اور وہاڑی کے ضلعی ہسپتالوں میں کیتھ لیب منصوبے جاری ہیں جہاں اب تک 1628 پروسیجرز کیے جا چکے ہیں۔ ان میں 1055 انجیوگرافی، 559 انجیو پلاسٹی، 12 پرائمری پی سی آئی اور 2 مریضوں کو عارضی پیس میکر لگانے کے اقدامات شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ضلعی ہسپتالوں میں اسٹروک مینجمنٹ سینٹرز کے قیام کے لیے اقدامات کی ہدایت دیتے ہوئے تمام مراکز صحت کی ری ویمپنگ رواں سال مکمل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے نرسنگ ڈگری پروگرام کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں نشستیں بڑھانے کے لیے بھی ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔
